Translate

Monday, March 2, 2020

(قصہ ایک فقیر کا(قصہ حاتم طائ سے





حسن بانو کو یہ مشورہ پسند آیا اور سوچنے لگی کہ ایسا کون ہوگا جو ان سوالوں کا
جواب لائے گا۔ انہی خیالات میں غلطاں و پیچاں وہ آٹھوں پہر نماز روزے میں
مشغول رہنے لگی۔ ایک دن اپنے کوٹھے پر بیٹھی بازار کا تماشا دیکھ رہی تھی کہ اتنے
میں ایک فقیر نہایت بزرگ صورت چالیس خادموں کو لیۓ اس طرف اس ادا سے
گزرا کہ پاوں بھی زمین پر نہ رکھتا تھا۔ اس کے خادم سونے کی اینٹیں قدم تلے
رکھتے جاتے تھے اور وہ ان پر پیر رکھتا ہوا چلا جاتا تھا۔ یہ دیکھ کر حسن بانو اپنی
دائی سے کہا:
اے اماں جان! یہ فقیر با صاحب کمال معلوم ہوتا ہے۔
دائی نے کہا : ”اماں واری! یہ بادشاہ کا پیر ہے۔ بارشاه مہینے میں دو چار بار اس
کے پاس جاتا ہے اور یہ بھی کبھی کبھی بادشاہ کے پاس آتا ہے۔ اس پر حسن بانو بولی
"اگر تم اجازت دو تو اس درویش کو گھڑی دو گھڑی کے لیے اپنے گھر آنے کی
زحمت روں
دائی نے کہا : اس میں کیا پوچھنا ہے۔ مثل مشہور ہے آنکھوں سکھ کلیجے ٹھنڈک
غرض دوسرے دن وہ فقیر اپنے چالیس فقیروں کے ساتھ حسن بانو کے گھر
آپہنچا۔ حسن بانو نے دروازے سے لے کر نشست گاہ تک زر کا فرش پہلے
ہی سے کروا رکھا تھا۔ وہ اس کو روندتا ہوا مسند شاہانہ پر آبیٹھا۔ خواجہ سرا زر و
جواہر کی کشتیاں اس کے آگے لے آئے۔ اس نے کبھی قبول نہ کیا۔ پھر بہت سے
خان شیرینی اور میوے کے لے آئے اور سونے چاندی کے برتنوں میں تم تم کے
کھانے رکھ کر اس کے ہاتھ دھلوائے اور عرض کرنے لگے کہ ہماری بی بی کی التجا
ہے کہ آپ کچھ تناول فرمائیں۔ یہ سن کر وہ مکار کھانا کھانے لگا اور سونے چاندی
کے اسباب کو بھانپنے لگا۔ وہ ہر نوالے کے ساتھ یہ سوچتا رہا کہ آج کی رات یہ تمام
قیمتی سامان اپنے گھر لے جاؤں گا۔ کھانے کے بعد جڑاؤ عطردان لایا گیا ۔ اس نے
عطر اپنی داڑھی اور پوشاک میں ملا اور حسن بانو کو دعائیں دے کر چلا گیا۔
اتنے میں رات ہو گئی۔ حسن بانو کے گھر کے لوگ کام کاج میں اتنے تھک گئے
تھے کہ بے اختیار پاؤں پھیلا کر سو رہے۔ نہ دروازے بند کیے اور نہ اسباب و جواہر
کو ٹھکانے رکھا۔ بعد دو پہر رات کے وہ ڈکیت اپنے چالیس چوروں کے ساتھ اس
کی حویلی پر آپڑا اور تمام زر و جواہر غارت کرنے لگا۔ اس عرصے میں جو لوگ جاگے وہ ان ظالموں کے ہاتھوں زخمی ہوئے اور پھر مارے گئے۔
حسن بانو اپنے کوٹھے کی کھڑکی سے جھانک جھانک کر دیکھتی تھی اور ان کو پہچان
کر افسوس کرتی تھی کہ یہ تو وہی فقیر ہے۔ غرض رات جوں توں کاٹی صبح کو
مردوں اور زخمیوں کو لے کر بادشاہ کے پاس حاضرہوئی۔ رات کا سارا قصہ گوش گزار کیا
بادشاہ سے اس نے کہا
کل لونڈی نے اس فقیر کی مہمانی کی تھی۔ سو اس نے دو پہر رات گئے چالیس
چوروں کے ساتھ مجھ غریب کا گھر لوٹا۔ دس بیس کو زخمی کیادو چار کو مار ڈالا اور
گیارہ بارہ لاکھ روپے کا زرو جواہر و نقد و اسباب لے گیا۔ خدا اس کا منہ کالا کرے
کہ اس نے اس قدر ظلم و ستم کیا۔
یہ سنتے ہی بادشاہ غصے میں آ گیا اور بولا: ”نادان تھے کچھ شعور بھی ہے جو اپنے ولی
پر تہمت لگاتی ہے۔ وہ تو تمام جہان کی چیزوں سے نفرت کرتا ہے۔ حسن بانو نے پھر عرض کی کہ اے حضرت! ایسے کافر کو ولی نہ کہئیے۔ یہ تو شیطان سے بھی زیادہ برا
ہے۔ یہ سن کر بادشاہ اور بھی برہم ہوگیا اور بولا:
ارے کوئی ہے!اس بد بخت کو میرے سامنے ہی سنگار کرے۔
اتنے میں ایک نیک وزیر آیا اور پایہ تخت چوم کر بولا : "جاں پناہ! یہ اسی
برزخ سوداگر کی بیٹی ہے جس کے سر پر آپ ہمیشہ شفقت فرماتے تھے اور اپنے پاس
بھلاتے تھے۔ آج اس کو سنگسار کرتے ہیں۔ اگر اس کے ساتھ یہ سلوک ہوا تو ہر
ایک اس اندیشے سے بھاگ جاۓ گا کہ جہاں پناہ ہمارے بعد ہماری اولاد سے بھی ایسا
سلوک کریں گے اور اس خیال سے آپ کے غلام ایک ایک کر کے بھاگنا شروع کر
دیں گے اور کیا عجب ہو کہ د شمنوں سے جا ملیں۔ یہ عرض کرنی واجب تھی، آگے جو
مرضی خداوند کی۔
یہ سن کر بادشاہ بولا: ”اے دانش مند میں نے تیری سفارش اور برزخ سوداگر
کی خاطر سے اس کی جان بخشی کی مگر یہ آج ہی اس شہر سے نکل جا میرے
آدمی اس کو جلا وطن کریں اور اس کے گھر کا سارا سا مان( لباس
وغیرہ) مکان میں داخل کریں۔ چناں چہ فوج تیار کی گئی اور حسن بانو کو گھر
سے بے گھر کر کے گھر کا سارا سامان جو اس فقیرسے بچا تھا اٹھا لے گئی اور وہ غریب
اپنی دائی کے ساتھ ایک جنگل میں جا پڑی۔ جنگل میں پہنچ کر اپنی دائی سے کہتی
تھی کہ نہ جانے ایسی کیا خطا ہوئی جو میں اس عذاب میں پڑی۔ وہ اس کو گلے لگا کر
یوں دلاسا دیتی تھی کہ بی بی صبر کر۔ اگر اللہ فضل کرے گا تو پھر سب ٹھیک ہو کے رہے گا.

No comments:

Post a Comment