Translate

Saturday, February 29, 2020

حسن بانو کے سات سوالات



لکھنے والوں نے یوں لکھا ہے کہ اگلے زمانے میں یمن کا ایک بادشاہ تھا جس کا
نام تھا "طے"۔ اس کے ہاں جب ایک بیٹا پیدا ہوا تو اس نے نجومیوں سے لڑکے
کے مستقبل کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے شاہ زادے کو ہر طرح سے
صاحب اقبال پایا اور کہا، "یہ اللہ کی خوش نودی کے لیے تمام عمر کام کرتا رہے گا
بادشاہ نے ان کو انعام دیا اور شاہ زادے کا نام حاتم رکھا۔ جس دن حاتم پیدا
ہوا اسی روز ملک میں چھ ہزار بچے پیدا ہوئے۔ بادشاہ نے ان سب کی پرورش اپنے
ذمے لے لی۔ چھے ہزار دائیاں ان بچوں کے لیے رکھی گئیں اور چار دائیاں حاتم
کے واسطے مقرر کی گئیں۔ انھوں نے لاکھ کوشش کی مگر حاتم نے دودھ نہ پیا۔
بادشاہ نے فورا سیانوں کو بلوایا اور اس کا سبب پوچھا۔ وہ بولے کہ حاتم پہلے دوسرے
بچوں کو دودھ پلوائے گا، پھر خود پئے گا۔ چنانچہ جب دوسرے بچے دودھ پی چکے
تب حاتم نے بھی دودھ پیا۔ حاتم بچپن ہی سے نہ روتا نہ اکیلے کھاتا اور نہ غفلت
کی نیند سوتا۔
فضل خدا سے حاتم جب چودہ برس کا ہوا تو جو زر و جواہر باپ نے جمع کیا تھا
اسے راہ خدا میں خرچ کرنے لگا۔ جب شکار کو جاتا تو جانور کو زندہ ہی پکڑتا اور چھوڑ
دیتا۔ حسین بھی ایسا پایا تھا کہ جو دیکھتا ہزار جان سے فریفتہ ہو جاتا۔ اتفاق سے
ایک دن جنگل میں شکار کھیلنے گیا کہ اتنے میں ایک شیر غراتا ہوا نظر آیا۔ حاتم کو
اندیشہ ہوا کہ اگر خنجر مارتا ہوں تو یہ بے زبان زخمی ہو جاتا ہے یا مارا جاتا ہے
اگر چھوڑتا ہوں تو خود جان گنواتا ہوں سوچنے لگا اگر میں اسے اپنا گوشت کھلا دوں تو اسکا
پیٹ بھر جائے گا اور مجھ کو ثواب ہو گا۔ چنانچہ حاتم شیر کے آگے آیا اور بولا:
اے شیر صحرائی! میرا اور میرے گھوڑے کا گوشت حاضرہے۔ اپنا پیٹ بھر
لے اور چلا جا۔
یہ سنتے ہی شیر اپنا سر جھکا کر حاتم کے قدموں پر گر پڑا۔ یہ دیکھ کر حاتم نے کہا:
"اے شیر یہ مناسب نہیں کہ حاتم کے پاس سے تو بھوکا جائے۔ اگر مجھ کو نہیں کھانا
تو میرا گھوڑا موجود ہے۔"
شیر سر جھکا کر چلا گیا۔ غرض حا تم برابر خلق خدا کی خدمت کرتا
رہتا تھا۔
اسی زمانے میں ملک خراساں میں ایک بادشاہ تھا جس کے عدل و انصاف کا یہ
عالم تھا کہ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے تھے۔ اس جگہ برزخ نامی ایک بڑا
مال دار سوداگر رہا کرتا تھا۔ بادشاہ اس پر بڑا مہربان تھا۔ اس سوداگر کی ایک ہی بیٹی |
تھی جس کا نام تھا حسن بانو۔ سوداگر کا جب آخری وقت آیا تو حسن بانو بارہ برس
کی تھی۔ چنان چه سوداگر نے حسن بانو کو بادشاہ کے سپرد کیا اور ابدی نیند سو گیا۔
بادشاہ نے بھی اسے اپنی بیٹیوں کی طرح رکھا اور اس کے باپ کا سارا زر و جواہراسی
کو بخش دیا۔ خود لالچ نہ کیا۔
جب لڑکی بڑی ہوئ تو اپنی دائی سے کہنے گی : "اے مهربان ماں! دنيا پانی کے
بلبلے کی طرح ہے۔ اتنی دولت لے کر میں اکیلی کیا کروں گی۔ بہتر یہ ہے کہ اس کو
راہ خدا میں دے دوں اور خود شادی بیاہ بھی نہ کروں بلکہ یاد اللہ میں مشغول رہوں۔
اب تم بتا ؤکہ شادی سے کس طرح چھٹکارا پاؤں۔"
دائی نے بلائیں لے کر کہا: اے جان مادر تو ان سات سوالوں کو لکھ کر اپنے
دروازے پر لگادے اور یہ کہہ کہ جو میرے ساتوں سوال پورے کرے گا میں اس کو
قبول کروں گی۔ وہ سات سوال یہ ہیں
پہلا سوال یہ ہے کہ ایک بار دیکھا ہے دوسری بار کی ہوس ہے۔ دوسرا سوال
یہ ہے کہ نیکی کر دریا میں ڈال۔
تیسرا سوال یہ ہے کہ بدی کسی
سے نہ کر'اگر کرے
گا تو وہی پائے گا۔ چوتھا سوال یہ ہے کہ سچ کہنے والے کے آگے ہمیشہ راحت ہے۔
پانچواں سوال یہ ہے کہ ”کوہ ندا کی خبر لا چھٹا سوال یہ ہے کہ وہ موتی جو
مرغابی کے اڈے کے برابر موجود ہے اس کی جوڑی پیدا کرے۔ ساتواں سوال یہ
ہے کہ تمام بار گرد" کی خبر لائے

Wednesday, February 26, 2020

قصہ حاتم طائی اور حیدری




وہ طاقت ور ہے‘ بہادر ہے‘ ہمدرد ہے۔ وہ سب کی مدد کرتا ہے۔ اس
میں بلا کی ہمت اور جرات ہے۔ دوسروں کی تکلیف اٹھاتا ہے۔ وہ شیر کو اپنا گوشت
پیش کرتا ہے۔ وہ گیدڑ کے بچوں کی جان بچاتا ہے۔ وہ ہرنی کو بھیڑیے کے پنجے سے
چاتا ہے۔ اس کی ہمدردی اور رحم دلی سے انسان اور جانور سب کو فائدہ پہنچتا ہے
وہ ایک شاه زادے منیر شامی کی مشکل آسان کرنے کے لیے اپنی جان جوکھوں میں
ژان ہے۔ ایک دو نہیں سات مہمیں سر کرتا ہے۔ حسن بانو سات سوال کرتی ہے۔
ہر سوال کے جواب کے لیے اسے ایک سفر ایک مہم پر جانا پڑتا ہے اور ہر قسم کی
مشکل اور خطرہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
یہ کون ہے؟ کوئی ولی ہے, کوئی جن ہے یا کوئی جانور ہے؟ نہیں ایک انسان
ہے اس کانام حاتم طائی ہے۔ حاتم دیو یا جن نہیں انسان ہے لیکن اپنی مہموں کے
دوران میں اس کا واسطہ اس قسم کی مخلوق سے پڑتا ہے۔ کبھی اس کو ایک مچھی ملتی
ہے جس کا آدها دھڑمچھلی کا اور آدھا عورت کا ہے۔ حاتم کو ایک ایسی صورت
دکھائی دیتی ہے جس کے نو ہاتھ نو پاؤں اور نو منہ ہیں ۔ اس کے منھ سے دھواں
اور شعلہ نکلتا ہے۔ حاتم کو آٹھ پاؤں اور سات سروں کا ایک جانور بھی ملتا ہے۔
اس کو کئی بزرگ ملتے ہیں۔ یہ بزرگ اس کو بھوک پیاس کے لیے روٹی دیتے اور
کنویں سے باہر نکالتے ہیں۔ حاتم کو پریوں جادو اورکالے علم کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
غرض کہ حاتم طائی کو عجیب و غریب واقعات پیش آتے ہیں۔ وہ ہمت نہیں
ہارتا۔ آخر کامیاب ہوتا ہے۔ حاتم کی انھی سات مہموں کی داستان حیدر بخش
حیدری نے بڑے مزے دار انداز میں لکھی ہے۔ یہ داستان پونے دو سو سال پہلے
۱۸۰۵ء میں فورٹ ولیم کالج کلکتے سے پچپی تھی۔ اس کتاب کا نام آرائش محفل یا
قصہ حاتم طائی رکھا گیا تھا۔ ایک صاحب نے اس کا نام "ہفت میر حاتم بھی لکھا
در بخش حیدری کا پورا نام منشی سید محمد حیدر بخش حیدری تھا۔ ان کے بزرگ
بن اشرف سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے تھے۔ ان کے والد کا نام سید ابو الحسن
نجفی تھا۔ وہ دہلی میں رہتے تھے مگر جب زندگی دہلی میں تنگ ہو گئی تو وہ بنارس چلے
گئے۔ بنارس میں ولی جیسے باکمال لوگ نہیں تھے مگر خوش قسمتی سے حیدر بخش
حیدری کو بنارس میں بھی قابل لوگوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا۔ بنارس میں
نواب ابراہیم خاں خلیل عدالت کے جج تھے۔ وہ پٹنہ کے رہنے والے تھے۔ فاری
زبان بہت اچھی جانتے تھے۔ مشہور شاعر تھے۔ کئی کتابیں لکھی تھیں۔ ابوالحسن نے
اپنے بیٹے حیدری کو نواب صاحب کے حوالے کر دیا، جن سے حیدری نے بہت کچھ
.سیکھا

Tuesday, February 25, 2020

تاریخ کے جھرونکوں سے



یورپ میں پندرھویں صدی عیسوی میں جب 
علم وادب کا ذوق شوق بڑھ گیا تو
وہاں علوم کو دوبارہ زندہ کرنے کی تحریک شروع ہوئی۔ عالموں ادیبوں اور شاعروں
نے یونان اور روم کے پرانے مصنفوں, ادیبوں اور شاعروں کی تحریروں کو بہترین قرار
دے کر انھیں کلاسیک کا نام دیا۔ یہ لفظ پوری دنیا بھر میں مقبول ہوا۔ اب ہر ملک
اپنے ماضی کے بہترین ادب کو کلاسک یا کلاسیکی ادب کہتا ہے۔ اردو میں کلاسک کا
ترجمہ ادب عالیہ ہے۔
اردو ادب عالیہ کے دور ماضی کی کئی کتابیں ہیں جن میں باغ و بار آرائش
محفل یا قصہ حاتم طائی اور تراکمانی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ داستانی ادب کا زمانہ تھا۔
ایک طرف تو خوب صورت داستانیں لکھی جارہی تھیں اور دوسری طرف خوش کلام
داستان گو تھے جو محفل میں فی لفظ اور آواز کے مناسب زیرو بم کے ساتھ اپنے
مخصوص طرز ارا میں مزے لے لے کر داستان سناتے تھے اور حاضرین اس سے
محظوظ ہوتے تھے۔ اردو میں داستان سرائی در تک مقبول نہیں ہے۔ بعد میں فسانہ
آزاد اور فسانہ اب جیسی لازوال کتابیں لکھی گئیں۔ ان سب داستانوں نے بے
شمار افسانوی کردار متعارف کرائے اور سب سے اہم بات بی ۔ انھوں نے فصیح اور
معیاری اردو کو مقبول اور ہر دل عزیز بنایا۔
انہی میں سے ایک کردار حاتم طائی ہے جو مقبولیت کی بلندیوں کو چھو چکا ہے
آ نے والی اشاعت میں انشاء اللہ قصہ حاتم طائ
کو شائع کیا جاۓ گا

Monday, February 24, 2020

...............فرق




......میں بالکل بھی اچھی نہیںں
 
مجھے کوئ ہنس کہ بلا لے تو لگتا ہے میرے ساتھ مخلص ہے
کچھ دیر بعد وہی انسان مجھ پہ ہنس رہا ہوتا ہے
........کیونکہ میں اچھی نہیں ہوں
جب بھی کوئ نیا رشتہ بنایا تو لگا یہ ساتھ دے
گا
مگر اپنا مطلب پورا ہوتے ہی لوگ بد ل گئے
میں اپنی خوشیوں کو دوسروں کی ضرورتوں پہ ترجیح دیتی ہوں
.......کیونکہ میں اچھی نہیں ہوں
میں ہر شخص پہ اندھا یقین کر لیتی ہوں اہم ر وہ شخص مجھے اندھا ثابت کر ہی دیتا
.......کیونکہ میں اچھی نہیں ہوں
جو مجھے اپنا کہ دے میں اسے اپنا مان لیےی ہوں یہ سوچے بغیر
اپنا کہنے اور ہونے میں فرق ہوتا ہے
میں یہ فرق نہیں سمجھ پائ
....... کیونکہ میں اچھی نہیں ہوں

Saturday, February 22, 2020

سرخ چڑیا

.......ہرے بھرے اک پیڑ پر
اک سرخ چڑیا اداس ہے
............اداس یوں کہ
آنکھوں میں اداسی ہے
نہ ہونٹوں پہ مسکان ہے
شجر ثمر سے لدے ہوۓ
پر چڑیا کیوں انجان ہے؟؟؟؟؟؟
!!!!ارے وہ دیکھو کسی اوڑھ سے
گھنگور گھٹا ہے آنے کو
جل تھل ہوگا اب بن سارا
پنچھی بھی تو چہکیں گے
اب جنگل میں منگل ہوگا
اور جھوم کے ساون آۓ گا
یوں کھل اٹھے گا بن سارا
بشر بھی جھومے گاۓ گا
وہ پاس گاؤں کا چرواہا
کوئ دھن بانسری پہ بجاۓ گا
وہ ننھا سا اک منا جو
اکثر چڑیا کو دیکھتا ہے
اور دیکھ کے یوں اچھلتا ہے
اسے بھیینچ کے اپنی مٹھی میں
اک دن وہ اسے لے جاۓ گا
بادل بھی اب ہے برسنے کو
اب سب جل تھل ہو جاۓ گا
اب تو چڑیا بھی ہنس دے گی 
 پر پھیلا کے گگن میں
رقص کرے گی یوں چڑیا
سب کو ششدر کردے گی
اک برسات کی چاہت میں
 چڑیا نےکتنے دکھ جھیلے
پر کس کو خبر یہ ساون تو
چڑیا کو راس نہ آۓ گا
تنکا تنکاجو آشیاں ہے 
اپنا ہی بکھرتا جا ۓ گا
وہ آن کھڑی ہے مست ہوا
پر چڑیا اب نہ چہکے گی
کچھ خواب ادھورے ہی اچھے
یہ آج سمجھ میں آیا ہے
چڑیا کو جب بے جان پڑا
یوں شاخ پہ میں نے پایا ہے 




Thursday, February 20, 2020

..............کبھی

کبھی ہم سے بھی ہم کلام ہو
کبھی ہم کو بھی دیدار دے
یہ جو تشنگی ہے دید کی
رگ جان میں ہے اتر چکی
میری سماعتوں پہ کرم تو کر
میری وحشتوں کو بہار دے
کبھی آ ملے جو تو خواب میں
تیری دید سے میری عید ہو
میرے ہمنوا میرے چارہ گر
میری عید ہو کبھی دید دے
از قلم
ا. ق

Saturday, February 15, 2020

اپنی زندگی میں کسی کو اہمیت دینے سے پہلے
اسکی زندگی میں اپنی اہمیت بھی دیکھ لیں
کیونکہ اکثر لو گوں کو عزت ,محبت اور اہمیت
ہضم نہیں ہوتی
لوگ آپکی زندگی میں تب نہیں آتے جب آپکو ان
کی ضرورت ہو وہ تب آتے ہیں جب وہ خود
کسی سہارے کی تلاش میں ہوتے ہیں مگر جیسے
ہی انہیں کوئ آپ سے بہتر انسان یا کوئی
سرگرمی مل جاۓ گی تو آپ کی توجہ آپکا
احساس آپکے منہ پر مار دیا جاۓ گا. پہلے پہل
آپکو اپنی تنہائ اور بے چارگی کہ قصے سنا کے
آپکو متوجہ کریں گے اور جب آپ انہیں توجہ
دینے لگیں گے تو اپکو فارغ اور فضول سمجھ کر
چھوڑ دیا جاۓ گا ابتدا میں آپ کے لیے کچھ
بھی کر جانے کہ دعوے دار, کچھ بھی نہیں کرتے
کچھ کرنا تو ایک طرف وقت دینا بھی گوارا
نہیں ہوتا
از قلم
ا. ق

Saturday, February 1, 2020

محبت کھیل تماشہ

ویسے کھیل تماشے تو بہت سی قسموں کے ہیں جنہیں کھیل کر اپنا فارغ وقت بہتر گزارا جا سکتا ہے
اور صحت بھی بہت اچھی رہتی ہے مگر آجکل 
 جو محبت کے  نام پر کھیل کھیلا جاتا ہے شاید ہی کسی اور چیز کے نام پر ایسا کھیل کھیلا جاتا ہو
اور جیسا کہ مشہور ہے"ہمارا اچھا مستقبل ہماری نو جوان نسل پر منحصرہے 
اور کھیلوں میں تو ہم سر بلند ہی اپنی نو جوان نسل کے بل بوتے پہ ہیں
بھئی آخر کو یہ نوجوان ہی تو ہیں جو
بیڈمنٹن, ہاکی ,کرکٹ جیسے کھیلوں میں حصہ لے کر ملک کا نام اونچا کیئے ہوئے ہیں
مگر قابل غور بات یہ ہے کہ ان مشہورکھیلوں کہ علاوہ ہماری نوجوان نسل محبت پیار عشق (پرانے زمانے کے مطابق جذبات اور احساسات) 
نامی کھیل کو بھی بہت مہارت سے کھیلتی ہے 
 اور آجکل یہ کھیل مقبولیت کی اونچائیوں کو  چھو رہا ہے 
 یہاں ایک چھو ٹی سی کہانی کے ذریعے وضاحت کی جاتی ہے
آجکل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے تو محبت جیسا پاک جذبہ بھی ان سوشل میڈیا ایپس کی نظر ہو گیا ہے
لڑکا لڑکی  کی دوستی مشہور زمانہ ایپ فیسبک کی بدولت پروان چڑھی فیسبک پر دوستی ہوئی کچھ عرصے بعد دوستی محبت میں بدل گئی وٹس ایپ نمبرز کے تبادلے کے بعد ایک دو بار ملا قات ہوئ سال مہینے گزرتے گئے  
لڑکی نے اصرار کیا کہ اب گھر والے شادی کا کہ رہے ہیں تم گھر بات کرو لڑکے نے ٹال مٹول کر کے بہلا دیا لڑکی کی شادی کہیں فکس ہونے کے چانسز بڑھے تو لڑکی نے اپنی محبت کے سامنے رونا دھونا شروع کیا جیسا کہ لڑکے واقف ہیں لڑکیاں جزباتی اور  بیوقوف ہوتی ہیں. کیوں ؟
.....صحیح کہا نا
اب لڑکے کو نظر آرہا تھا معاملہ تو سیریس ہوتا جا رہا ٹال مٹول سے ٹلنے والا نہیں
لڑکی کو ملنے بلایا 
سنو بھئ میں نے تمہیں پہلے دن ہی کہ دیا تھا شادی نہیں ہو سکتی میں اپنے گھر والوں کی مرضی کے خلاف نہیں جا سکتا تم چپ چاپ شادی کرلو جہاں گھر والے کہیں
 :لڑکی
مگر تم تو مجھسے پیار کرتے ہو میں بھی تمھارے علاوہ کسی کا نہیں سوچ سکتی پلیز ایسا مت کرو اپنے گھر بات کرو
لڑکا
کہ دیا نہ ایک بار نہیں ہو سکتی اور محبت کا مطلب یہ نہیں کہ شادی کر لو(تو اور کیا مطلب ہے کسی کو پتہ ہو ضرور کمنٹ کریں)
لڑکی
اور وہ سب کچھ جو ہمارے درمیان تھا وہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا
لڑکا
آجکل یہ سب عام ہے جب تم کسی اور کے ساتھ ہوگی اس کے ساتھ بھی ایڈجسٹ ہو جاؤ گی
لڑکی
نہیں یہ نہیں ہو سکتا پلیز مجھے ایسا مت سمجھو
لڑکا
ارے تم اتنی ہی پاک صاف تھی تو نہ کرتی بات مجھسے کیوں کرتی رہی
لڑکی
میں محبت کرتی ہوں تم سے پلیز مجھ ایسے مت چھوڑو
لڑکا 
ارے جب پہلے دن ہی کہ دیا تھا تو تمہیں سمجھ آ جا نی چاہئے تھی نہ کرتی بات مجھ سے میں نے کب کہا تھا کرو
لڑکی
تم نے مجھے کہا تھا تم پیار کرتے ہو مجھ سے اب کیوں کر رہے ہو ایسا 
لڑکا
کہ دیا تو کیا کروں میں اپنے گھر والوں کے  سامنے برا بن جاؤں تمہاری خاطر جاؤ جان چھوڑو آئندہ کوئی رابطہ نہ کرنا مجھ سے ورنہ 
اچھا نہیں ہوگا
یہاں یہ جج نہیں کرنا کہ لڑکا غلط تھا یا لڑکی مگر صرف یہ کہ جو یقین کرتا ہے وہی غلط ہوتا ہے آجکل کہ دور میں سب سے بڑا گناہ ہے کسی
 کرنا Trust پہ 
اور یہاں ایک بھروسے یقین کا قتل ہوتا ہے وہ یقین جو پھر کسی پر نہیں ہوتا
میرا مقصد کسی ایک جنس کو پوائنٹ آؤٹ کرنا نہیں ہے صرف یہ کہ محبت کہ نام پہ کسی کو اتنی دور لے جا کر مت چھوڑیں کہ موت کے سوا 
کوئ رستہ ہی نہ بچے
لڑکا ہو یا لڑکی کسی سے اظہار مت کریں اگر اسکا ساتھ نہیں دے سکتے یہ ایک ایسا جزبہ ہے جس میں ایک انسان بنا کہے ہی اپنا حق سمجھتا ہے دوسرے پر اگر آپ محظ وقت گزاری کے لیۓ کسی کے ساتھ چلے ہیں کہ کسی موڑ پہ جا کے چھوڑ دیں گے تو معاف کیجیۓ گا آپ تو کتے سے بھی بدتر ہیں
جب ساتھ نہیں دے سکتے تو اعتراف محبت بھی مت کریں کم از کم اپنی نہیں تو لفط محبت کی توہین مت کروائیں
نبھانا فقط کچھ ہی لوگوں کو آتا ہے
بہت آسان ہے کہنا مجھے تم سے محبت ہے
از قلم                          
ا. ق