Translate

Saturday, February 22, 2020

سرخ چڑیا

.......ہرے بھرے اک پیڑ پر
اک سرخ چڑیا اداس ہے
............اداس یوں کہ
آنکھوں میں اداسی ہے
نہ ہونٹوں پہ مسکان ہے
شجر ثمر سے لدے ہوۓ
پر چڑیا کیوں انجان ہے؟؟؟؟؟؟
!!!!ارے وہ دیکھو کسی اوڑھ سے
گھنگور گھٹا ہے آنے کو
جل تھل ہوگا اب بن سارا
پنچھی بھی تو چہکیں گے
اب جنگل میں منگل ہوگا
اور جھوم کے ساون آۓ گا
یوں کھل اٹھے گا بن سارا
بشر بھی جھومے گاۓ گا
وہ پاس گاؤں کا چرواہا
کوئ دھن بانسری پہ بجاۓ گا
وہ ننھا سا اک منا جو
اکثر چڑیا کو دیکھتا ہے
اور دیکھ کے یوں اچھلتا ہے
اسے بھیینچ کے اپنی مٹھی میں
اک دن وہ اسے لے جاۓ گا
بادل بھی اب ہے برسنے کو
اب سب جل تھل ہو جاۓ گا
اب تو چڑیا بھی ہنس دے گی 
 پر پھیلا کے گگن میں
رقص کرے گی یوں چڑیا
سب کو ششدر کردے گی
اک برسات کی چاہت میں
 چڑیا نےکتنے دکھ جھیلے
پر کس کو خبر یہ ساون تو
چڑیا کو راس نہ آۓ گا
تنکا تنکاجو آشیاں ہے 
اپنا ہی بکھرتا جا ۓ گا
وہ آن کھڑی ہے مست ہوا
پر چڑیا اب نہ چہکے گی
کچھ خواب ادھورے ہی اچھے
یہ آج سمجھ میں آیا ہے
چڑیا کو جب بے جان پڑا
یوں شاخ پہ میں نے پایا ہے 




No comments:

Post a Comment