یورپ میں پندرھویں صدی عیسوی میں جب
علم وادب کا ذوق شوق بڑھ گیا تو
وہاں علوم کو دوبارہ زندہ کرنے کی تحریک شروع ہوئی۔ عالموں ادیبوں اور شاعروں
نے یونان اور روم کے پرانے مصنفوں, ادیبوں اور شاعروں کی تحریروں کو بہترین قرار
دے کر انھیں کلاسیک کا نام دیا۔ یہ لفظ پوری دنیا بھر میں مقبول ہوا۔ اب ہر ملک
اپنے ماضی کے بہترین ادب کو کلاسک یا کلاسیکی ادب کہتا ہے۔ اردو میں کلاسک کا
ترجمہ ادب عالیہ ہے۔
اردو ادب عالیہ کے دور ماضی کی کئی کتابیں ہیں جن میں باغ و بار آرائش
محفل یا قصہ حاتم طائی اور تراکمانی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ داستانی ادب کا زمانہ تھا۔
ایک طرف تو خوب صورت داستانیں لکھی جارہی تھیں اور دوسری طرف خوش کلام
داستان گو تھے جو محفل میں فی لفظ اور آواز کے مناسب زیرو بم کے ساتھ اپنے
مخصوص طرز ارا میں مزے لے لے کر داستان سناتے تھے اور حاضرین اس سے
محظوظ ہوتے تھے۔ اردو میں داستان سرائی در تک مقبول نہیں ہے۔ بعد میں فسانہ
آزاد اور فسانہ اب جیسی لازوال کتابیں لکھی گئیں۔ ان سب داستانوں نے بے
شمار افسانوی کردار متعارف کرائے اور سب سے اہم بات بی ۔ انھوں نے فصیح اور
معیاری اردو کو مقبول اور ہر دل عزیز بنایا۔
انہی میں سے ایک کردار حاتم طائی ہے جو مقبولیت کی بلندیوں کو چھو چکا ہے
آ نے والی اشاعت میں انشاء اللہ قصہ حاتم طائ
کو شائع کیا جاۓ گا

No comments:
Post a Comment